بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی بیان

 

کوئٹہ ( پ ر ) بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی بیان میںجاﺅ میں ڈاکٹرآصف کی
ایک عوامی اجتماع میں بی این ایم کے مرکزی سینئرممبرز کمیٹی کے طور پر شر
کت اور اخبارات میں مسلسل مرکزی رہنماءکے طورپر بیانات دینے کا سختی سے
نوٹس لیتے ہوئے کہا گیاہے کہ نہ ڈاکٹرآصف بی این ایم کے مرکزی رہنماءہیں
اور نہ ہی بی این ایم کا مرکزی سینئر ممبرز کمیٹی نامی کوئی تنظیمی ادارہ
موجود ہے

۔ڈاکٹر آصف کی سینٹرل کمیٹی سے رکنیت گزشتہ سات مہینے سے پارٹی
آئین کے تحت نااہل قرار پانے پر ختم کی جاچکی ہے ۔ان کا پارٹی کے کسی
ذیلی کونسل میں بطور عہدیدار یا ممبر ہونے کا بھی پارٹی مرکز کے پاس کوئی
رپورٹ نہیں اس بناءپر اسے کوئی حق حاصل نہیں کہ وہ کسی بھی سطح پر خود
کوپارٹی رہنماءکے طور پر پیش کر ئے ۔بیان میں جاﺅ ھنکین سمیت تمام
ھنکینان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پارٹی آئین کی مکمل پاسداری کریں پارٹی
میں نظم وضبط کی خلاف ورزی کسی بھی شر ط پر برداشت نہیں کی جائے گی ۔آئین
کے تحت یونٹ سازی کا حق صرف ھنکین کونسل کو حاصل ہے دمگ کے
عہدیداراختیارات سے تجاوز نہ کریں ۔دریں اثناءبلوچ نیشنل موومنٹ کے
سیکریٹری اطلاعات قاضی داد محمد نے کہا ہے کہ پارٹی ممبران او ر ذمہ دارن
تنظیمی ادروں کے اندر اس طرح کے مواد ہر گز تقسیم اور فروخت نہ کریں جو
کہ تنظیمی اشاعتی ادارے زرمبش یا مرکزی سینٹرل کمیٹی کے کسی فیصلے کے تحت
شائع نہ کیے گئے ہوں ۔انہوںنے کہاکہ چند ممبرا ن کی طرف سے مسلسل توجہ
دلانے کے باوجود سینٹرل کمیٹی کے فیصلوں کی خلاف ورزی کی جارہی ہے جسے
نظر اندازکرنے سے پارٹی کے ادارے کمزور ہوں گے ۔ آئندہ سینٹرل کمیٹی کے
اجلاس میں ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی سفارش کی جائے گی۔ رواں سیشن
میں پارٹی کے سینٹرل کمیٹی کے شہید غلام محمد بلوچ کی سر براہی میں ہونے
والے دوسرے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیاتھا کہ پارٹی کے مرکزی صدر ، جنرل
سیکریٹری اور سیکریٹری اطلاعات کے علاوہ کسی کو پالیسی بیان جاری کر نے
کی اجازت نہیں اور نشر واشاعت زرمبش پبلی کیشنز کی نگرانی میں ہوگی ۔
ھنکینان کو پابند کیا گیاہے کہ وہ اسٹیکر زسمیت کسی بھی قسم کا اشاعتی
مواد مرکزی سیکریٹری اطلاعات کے علم میں لائے بغیر شائع نہیں کرسکتے ۔ یہ
فیصلہ اشاعتی مواد میںپارٹی پالیسوں کے بر عکس نعرے بازی اور غیر ضروری
مواد کی اشاعت کی روک تھام کے لیے کیے گئے تھےجسے گزشتہ سینٹرل کمیٹی سے
پہلے ہونے والے اجلاس میں بھی برقرار رکھا گیا تھا۔انہوںنے توجہ دلاتے
ہوئے کہا کہ بعض افرادپارٹی وابستگی کا غلط استعمال کرتے ہوئے ذاتی
اشاعتی اداروں کے ذریعے مرضی کے پوسٹرز ، کلینڈرز اور لٹریچر ز شائع کر
کے پارٹی ممبران میں تقسیم اور فروخت کرکے پارٹی کے اشاعتی ادارے زرمبش
پبلی کیشنز کے متبادل کے طور پر خود کو پیش کرنے کا تاثر دے رہے ہیں۔ ذمہ
داران اس طرح کے موا د کی تقسیم اور فروخت سے گریز کریں۔جو افراد قومی
تحریک کے اُبھار سے فائدہ اٹھا کرمنافع یا شہرت یا اپنی دانست میں تحریک
کے مفاد میں انفرادی طور پر کوئی کام کرنا چاہتے ہیں توہمیں اس پر کسی
قسم کے اعتراض کا حق نہیں لیکن اس طرح کے مواد کی پارٹی ممبران میں پارٹی
ذرائع استعمال کرتے ہوئے فروخت اور تقسیم کی ہر گز اجازت نہیں دی جائے گی
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئٹہ ( پ ر ) بلو چ نیشنل موومنٹ کے قائمقام صدر عصاءظفر نے اپنے بیان
میں کہا ہے کہ پسنی میں کوسٹ گارڈ اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد بی این ایم
اور بی ایس او ( آزاد ) کے کارکنان کے گھروں پر چھاپے حالات کو کشیدگی کی
طرف لے جانے کی کوششہے ۔ سر کار تا ثر پیدا کرنا چاہتی ہے کہ بلوچ قوم
دوست سیاسی جماعتوںکا تعلق بلوچ مسلح حر یت پسندوں سے ہے تاکہ ان کے خلاف
کسی جارحانہ کارروائی یا کریک ڈاﺅن کاجواز پید اہو ۔پسنی سے گرفتار کیے
جانے والے سیاسی کارکنان اور عام افراد کو پولیس حراست میں رکھنے کی
بجائے کوسٹ گارڈ کے ٹارچر سیلوں میں قید رکھ کر اذیت دیا جارہاہے ۔پنجابی
کوسٹ گارڈ ساحلی علاقوں میںایک دہشت گرد فورس کے طور پر مقامی بلوچ ماہی
گیروں پر حکمرانی کی خواہش مند ہے اور لوگوں پر جبر وزیادتی کرکے اپنا
رعب جمانے کے بہانے تلاش کرتی رہی ہے ۔ بلوچستان کے کونے کونے میں بلوچ
مسلح حریت پسندوں اور قابض فورسز کے درمیا ن جھڑپ معمول کے واقعات ہیں اس
طرح کے واقعات کے بعد پاکستانی فورسز کا اشتعال میں آنا ان کے اخلاقی اور
ذہنی پستی کی نشانی ہے۔ بلوچ پولیس افسران کوسٹ گارڈ کے پنجابی اہلکاروں
کے جبری قانون کی اطاعت کرکے اپنے لیے سماجی مسائل پید انہ کریں بلوچ
گھروں پر بلاجواز چھاپے اور چادر وچاردیواری کی پائمالی بلوچ اقدار کی
خلاف ورزی ہے ۔ قوم سخت ترین حالات کے مقابلے کے لیے تیار رہے بی این ایم
کے جھد کار ظلم وجبر کے آگے جھکنے والے نہیں ۔ بلوچوں کے پاس قومی جدوجہد
میں رک کر دم لینے کا بھی موقع نہیں ہاتھ پر ہاتھ دھرے رہے تو مٹ جائیں
گے ۔واضح رہے کہ پسنی میں گزشتہ روزجڈی کے مقام پر گھات لگائے مسلح
افرادنے کوسٹ گارڈ اہلکاروں پر حملہ کر کے دوپنجابی سپاہیوں کو ہلاک
کردیا ۔جس سے مشتعل ہو کر پاکستان کوسٹ گارڈ کے پنجابی اہلکاروں نے پسنی
شہرکی ناکہ بندی کی اورگھر گھر تلاشی لی ۔کوسٹ گارنے ڈ پولیس کے ساتھ مل
کر بی ایس او(آزاد ) کے جنرل سیکریٹری نظام بلوچ ، سعید امیر بخش ،عدنان
عثمان اور بی این ایم کے سینئر ممبر بابا بوھیر کے گھر پر چھاپہ مار کے
ان کے گھر سے صغیر نامی رشتے دار کو گرفتار کیا ۔ بی ایس او (آزاد ) کے
زونل صدر حنیف بلوچ ، سیکریٹری جنرل وسیم ،جوائنٹ سیکریٹری یوسف کے گھروں
اوردکانوں پر بھی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے گئے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پنجگور ( پ ر )8اپریل صبح 10بجے پنجگور چتکان میں شہدائے مرگاپ کی یاد
میںہونے والے بی این ایم کے جلسہ عام کی تمام تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں ۔
جلسہ عام کے سلسلے میں شہرکو پوسٹر اور شہداءکی تصاویر اور پارٹی جھنڈوں
سے سجایا جائے گا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موصولہ :۔ پنجگور ۔ مرکزی دفتر اطلاعا ت بلوچ نیشنل موومنٹ